نیٹو، ایران تنازع اور ٹرمپ کی پالیسی
:مارک روٹے کا کلیدی کردار
ٹرمپ کی نیٹو پر تنقید اور 'پیپر ٹائیگر' کا خطاب
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر نیٹو (NATO) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک "کاغذی شیر" قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے بغیر نیٹو کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ٹرمپ نے یورپی ممالک پر بزدلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کی جنگ جاری تھی، تو ان ممالک نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اب جبکہ وہ جنگ فوجی طور پر جیتی جا چکی ہے، تو یہی ممالک تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا رونا رو رہے ہیں لیکن آبنائے ہرمز کو کھولنے میں مدد فراہم نہیں کر رہے، جو کہ ایک سادہ سی فوجی کارروائی ہے۔
مارک روٹے: ٹرمپ کے مضبوط حامی
جہاں ایک طرف بڑی یورپی طاقتیں ایران کے معاملے پر ٹرمپ کی حمایت سے کتراتی رہی ہیں، وہیں نیدرلینڈز کے سابق وزیراعظم مارک رٹے نے مستقل مزاجی کے ساتھ ٹرمپ کی پالیسیوں کی حمایت کی ہے۔
یورپی رہنماؤں کا موقف رہا ہے کہ نیٹو محض ایک دفاعی اتحاد ہے، اس لیے وہ آبنائے ہرمز میں امریکی کوششوں کا حصہ بننے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے۔ تاہم، رٹے نے ٹرمپ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ "وہ یہ سب پوری دنیا کو محفوظ بنانے کے لیے کر رہے ہیں۔"
:یورپی ممالک کی ہچکچاہٹ کی اصل وجہ
مارک رٹے نے انکشاف کیا کہ یورپی طاقتوں کو اس معاملے میں ساتھ آنے میں وقت اس لیے لگا کیونکہ انہیں شروع میں منصوبہ بندی کا حصہ نہیں بنایا گیا تھا۔ ان کے بقول، امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں "حملے کی رازداری" (Element of Surprise) برقرار رکھنے کے لیے یورپی اتحادیوں کو ابتدائی پلاننگ سے دور رکھا گیا تھا، جس کی وجہ سے ان کے ردعمل میں تاخیر ہوئی۔
کیا آپ اس متن میں مزید سیاسی تجزیہ شامل کرنا چاہتے ہیں یا اسے کسی خاص سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے لیے مختصر کرنا ہے؟
.jpg)
Comments
Post a Comment